Donate

English

اردو

Logo11
jmlog
Donate
درس نظامی

" عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ( سنن ابن ماجه 224)  

درس نظامی قرآن و حدیث، فقہ، اصول فقہ، عربی زبان اور گرامر پر مشتمل 8 سال کا گہرا مطالعہ ہے۔

1+
ہرسال ہو نے والے داخلے
1+
طلبا ء کی تعداد
1+
اساتذہ کی تعداد

تعارف:

درس نظامی بارہویں صدی کے مشہور عالم ملا نظام الدین سہالوی کا مرتب کردہ وہ نصاب ہے جس میں بیس علوم وفنون کتابیں پڑھائی جاتی تھیں جن میں صرف، نحو، معانی، بلاغت، ادب وانشائ، منطق ، فلسفہ، ہئیت، کلام، مناظرہ، فقہ، اصول فقہ، تفسیر، حدیث، علم حساب، علم کیمیاء اور طب وغیرہ شامل ہیں۔  شروع میں تو مدارس میں درس نظامی اپنی اصل حالت میں جاری رہا لیکن رفتہ رفتہ ہر دور میں علماء نے اس میں وقتی ضروریات اور تقاضوں کے پیش نظر تبدیلیاں کیں اور تبدیلیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

اس وقت درس نظامی علوم شریعۃ پر مشتمل  8 سالہ عالم کورس ہے ۔ان 8 سالوں میں ، معانی، بلاغت، ادب، منطق ، فلسفہ، کلام، فقہ ، اصول فقہ، تفسیر، حدیث اور اصول حدیث کی تقریباً 60 کتابیں اس وقت اکثر مدارس میں داخل درس ہیں۔البتہ جدید حالات اور عصری تقاضوں کے پیش نظر اس نصاب میں اصلاحات اور ترامیم کا عمل جاری رہتا ہے۔


خصوصیات و اہداف

مسلم معاشرے میں علوم شریعہ ( قرآن ، حدیث ، فقہ) کی حفاظت اور اس کی ترویج کا سلسلہ جاری رکھنا۔

درس نظامی کا آٹھ سالہ نصاب 4مراحل میں تقسیم ہے اور ہر مرحلے کے اختتام پر وفاق المدارس العربیہ کی طرف سے کامیاب طلبہ کو اسناد دی جاتی ہیں۔

معاشرے کو ایسے افراد فراہم کرنا جو اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ علوم دین کے حصول میں خرچ کر چکے ہوں اور اپنی پختہ دینی و عصری تعلیم و معلومات کی بنیاد پر معاشرے کی صحیح رہنمائی کے فرائض انجام دے سکتے ہوں۔

بدلتے ہوئے حالات کے مطابق نت نئے مسائل کے جوابات اور ان کی تحقیق کیلئے محققین کی افرادی ضرورت پوری کرنا۔

درس نظامی میں داخلے کی بنیادی شرط میٹرک ہے ، درس نظامی کے نصاب کے ساتھ ساتھ تمام طلبہ کو عصری تعلیم بھی دی جاتی ہے ، طلبہ پر درس نظامی کے ساتھ اپنی استعداد کے موافقF.A/I.Com، B.A/B.Comکرنا لاز م ہے ۔ اس طرح جامعہ میں درس نظامی کرنے والا ایک فاضل کم از کم گریجویٹ ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے جامعہ کے فضلاء کالجو ں اور یونیورسٹیوں میں پروفیسر اور لیکچرار کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں۔

درس نظامی کے آخری سال میں صحاح ستہ : صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، جامع ترمذی ، سنن ابی دائود ، سنن ابن ماجہ ، سنن نسائی ،

تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سر گرمیاں مثلاً بزم ادب ، بیرونی مسابقوں و مقابلوں میں شرکت ، حفظِ حدیث، مختلف شارٹ کورسز (آئین ِ پاکستان ،تاریخ ِ اسلام، جدید فلسفہ، کالم نگاری ،امامت و خطابت، لیڈر شپ، ٹائم مینجمنٹ وغیرہ ) وقتاً فوقتاً جاری رہتے ہیں ۔

جامعۃ الرشید میں احادیث نبوی کی عصری تطبیق نیز جغرافیہ حدیث کے ذریعے محدثین کے حالات ، روایات احادیث اور تاریخ اسلامی کو ملٹی میڈیا پر نقشوں کے ذریعے واضح کیا جاتاہے ، جس سے اسباق میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے ۔

پاک و ہند میں تقریباً تمام دینی مدارس میں نصاب تعلیم کی اساس درس نظامی ہی ہے ، جس کا دورانیہ عموماً تین سالوں پر مشتمل ابتدائی مرحلے کے علاوہ 8سال پر مشتمل ہے ۔ اس نصاب میں قدیم درس نظامی ہی کی 60سے زائد کتب شامل ہیں۔ البتہ جدید حالات اور عصری تقاضوں کے پیش نظر اس میں اصلاحات اور ترمیم کا عمل جاری رہتا ہے ۔

دیگر سرگرمیاں

نصابی اصلاحات

جامعۃ الرشید نے درس نظامی کے غیر وفاقی درجات میں بعض کتب باقاعدہ درساشامل کیں ہیں اور اور بعض مضامین مختلف اوقات میں مختلف کورسز کی صورت میں پڑھائے جاتے ہیں ۔نصابی اصلاحات درج ذیل ہیں ۔

سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اسلامی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے ۔آپ کی سیرت کے بغیر اسلامی تاریخ ،عبادات اور معاملات ناقص اور نامکمل ہیں علم شریعت کے لیے آپ کی سیرت ایک اساسی حیثیت رکھتی ہے اور علوم نبویہ کے طالب علم کے لیے سیرت طیبہ سے واقفیت لازمی ہے ۔جامعہ میں سیرت کے مختلف ادوار کی تدریس داخل نصاب ہے جن میں درج ذیل کتابیں پڑھائی جاتی ہیں٭نورالیقین المعلم ٭ السیرۃ النبویۃ دروس وعبر

تاریخ اور حاضرالعالم الاسلامی

جامعۃ الرشید میں تاریخ کے مختلف اہم ادوار کو شامل درس کردیاگیا ہے تاکہ اسلام کے زرین اور عظیم انقلابات اور تبدیلیاں مختلف تاریخی نشیب وفراز اور مسلمانوں کے عروج وزوال کی داستان اور اس کے اسباب سے طالب علم کو قریبی واقفیت حاصل ہوجائے۔ 

جغرافیہ

جغرافیہ کی اہمیت موجودہ دور میں ناقابل انکارہے ،خصوصاً علماء کرام کے لئے جغرافیہ اس لیے اہم ہے کہ علماء عالم اسلام کے رہبر ہیں ۔انہیں چاہئے کہ وہ عالم اسلام کو محل وقوع کے اعتبار سے جانیںاوروہ علی وجہ البصیرۃ اسلام کے بارے میں سوچ سکیں ، ان سے رابطے میں رہیں اور ضرورت پڑنے پر ان کے کام آئیں۔

فلکیات

تخریج اوقات نماز اور تخریج سمت قبلہ وغیرہ جیسے اہم مسائل جو نماز اور روزے سے متعلق ہیں ،ان کا جاننا ایک عالم دین اور مفتی کے لیے ضروری ہے تا کہ وہ نمازوں کے صحیح اوقات، طلوع وغروب کا وقت اور مساجد کی سمت قبلہ کا صحیح تعین کرسکیں۔حضرت والا رحمہ اللہ تعالیٰ اس فن کے امام تھے ۔ان کے طرز پر جامعۃ الرشید میں فلکیات کا خاص اہتمام ہوتا ہے ۔

صرف ونحو میں اضافی کتب

وفاق کے نصاب میں شامل صرف ونحو کی کتابوں کے علاوہ جامعۃ الرشید میں غیروفاقی درجات میں صرف ونحو کی بہت سی کتابوں کا اضافہ کیا گیا ہے جیسے شرح ابن عقیل وغیرہ۔ تاکہ طلبہ صرف روایتی کتابوں پر ہی انحصار نہ کریں۔

آئینہ قادیانیت

ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم اور فتنہ قادیانیت سے آگاہی کے لیے کتاب آئینہ قادیانیت کو شامل درس کیا گیا ہے۔

تدریسی اصلاحات
تدریس کا انداز

عموماًمدارس میں تدریس کا انداز یہ ہے کہ استاذ سبق پڑھاتا ہے اور طلبہ سنتے ہیں لیکن اکابر علماء کرام کا قدیم طرز تدریس یہ ہے کہ طلبہ کتاب خودحل کرکے لائیں اور استاذ کے سامنے سبق پڑھیں ،جہاں اصلاح کی ضرورت ہو تو استاذ اصلاح کردیا کرے۔یہ طرز بہت مفید اور استعداد بنانے میں معاون ہے اوراس کے اچھے نتائج رہے ہیں۔ لیکن طلبہ کی تعداد جب بڑھ جائے تو اس طرز تدریس میںمشکلات پیش آتی ہیں ۔اسی وجہ سے عام مدارس میں اس کو تقریباً ترک کردیا گیاہے تا ہم جامعہ میں اس طرز کو باقی رکھا گیا ہے یہاں ہر درجہ میں دو تین کتابیں طلبہ خود حل کرتے ہیں۔

عملی مشق کا اہتمام:

جامعۃا لرشید میں تعلیم کے ساتھ ساتھ روز مرہ پیش آنے والے مسائل کی عملی مشق کروائی جاتی ہے جس سے طلبہ کو ان مسائل کے سمجھنے اور دوسروں تک عملاً پہنچانے کا طریقہ وسلیقہ آجاتا ہے۔جیسے وضوع ،نمازاور کفن دفن کا مسنون طریقہ پروجیکٹرکی مدد سے سکھایا جاتاہے اس کے علاوہ جغرافیہ کی تعلیم کی مشق مختلف نقشوں اور گلوب کے ذریعہ کرائی جاتی ہے۔ نیز فلکیات کی تعلیم میں سبق کا خصوصی دخل ہے ۔ لہذا یہاں فلکیات پڑھنے والا طالب علم دنیا کے کسی خطے میں نمازوں کا صحیح وقت اور سمت قبلہ کا صحیح تعین کرسکتا ہے۔

کتب خانے سے رابطہ

گاہے گاہے بنیادی مآخذ ومصادر کی طرف رجوع کرنے اور ان سے استفادہ کی غرض سے طلبہ کو مطلوبہ سبق حل کرنے کے لیے کتب خانے میں جا کر تحقیق وتنقیح کا کام ذمہ لگایا جاتا ہے۔

امتحانات کا طرز

مدارس میںامتحانات بالعموم تحریری ہوتے ہیں ۔جامعہ میں دونوں طرح کے امتحان کا نظام ہے ۔ رابعہ کے درجات تک کچھ کتابوں کا امتحان تقریری ہوتا ہے جن کا فیصلہ مجلس تعلیم کرتی ہے۔

اگلے درجات میں منتقلی کے لیے فیصد کا تعین

بنیادی استعداد مضبوط ہونے کی غرض سے درجہ اولیٰ میں اگلے درجہ میں کے لیے جانے تسھیل الصرف کے تقریری وتحریری امتحان میںکامیابی کے ساتھ کسی ایک امتحان میں 70 فیصدنمبرحاصل کرنالازمی شرط ہے اسی طرح نحومیر کے تحریری وتقریری امتحان میں کامیابی کے ساتھ کسی ایک میں 70 فیصدنمبرحاصل کرنالازمی شرط ہے ۔ جو طالب علم سالانہ امتحان میں70فیصد نمبر حاصل نہیں کرتا اس کا داخلہ اگلے درجے میں نہیں ہوتا ۔ دیگر درجات میں اگلے درجہ میں ترقی کے لیے60فیصد نمبر حاصل کرنا لازم ہے۔

ماہانہ مقدارخواندگی کا تعیین

اسباق کو معتدل انداز سے پڑھانا اور وقت پر ختم کرنے کے لیے جامعہ میں چارماہی اور سالانہ مقدارخواندگی کے ساتھ ماہانہ مقدارخواندگی کا نظام بھی رائج ہے ۔تمام اسباق کی مہینوں اور ایام کے اعتبار سے مقدارخواندگی مقرر کی گئی ہے تا کہ اسباق شروع سے آخر تک مناسب انداز سے جاری رہے۔

تدریس کے لیے جدید امدادی اشیاء

تمام درجات میں تدریس کے لیے بورڈ کا استعمال ہوتا ہے جس کے باعث نقشوں اور خلاصوں کی مدد سے مشاہداتی طور پر سبق سمجھنے سمجھانے میں آسانی ہوتی ہے۔موثر تدریس کے لیے آڈیووژول ایڈز (سمعی وبصری امدادی نظام ) کی خاص سہولت موجود ہے ۔یہ سہولت عام طور پر خصوصی تعلیمی سلسلے کے تحت منعقد کرائے جانے والے مختلف علمی وتربیتی کورسز کے لیے بہت کارآمدہے۔

دارالحدیث کی انفرادیت

جامعۃ الرشید میں احادیث نبوی کی عصری تطبیق نیز جغرافیۂ حدیث کے ذریعے محدثین کے حالات وروایات احادیث اور تاریخ اسلامی کو ملٹی میڈیا پر نقشوں اور تصویروں کے ذریعے واضح کیا جاتا ہے جس سے اسباق میں دلچسپی اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔

فارغ التحصیل طلبہ کے مستقبل کے لیے رہنمائی  
 و مشاورت

جامعۃالرشید کے دورہ حدیث سے فارغ ہونے والے طلبہ کی مستقبل میں دینی خدمات کا میدان اور اس کا دائرہ کار متعین کرنے کے لیے سال کے اختتام پر اساتذہ کرام پر مشتمل رئیس الجامعہ کی سربراہی میں ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس میں فردا فرداہر طالب علم کو بلایا جاتا ہے ا ور اسکے سابقہ آٹھ سالہ ریکارڈ کو دیکھا جاتا ہے ، خود طالب علم سے اسکی دلچسپی اور ترجیحات کے بارے میں پوچھ کر کمیٹی اسکی استعداد اور صلاحیت کے مطابق مناسب تشکیل کر دیتی ہے۔ادارہ اپنے توسط سے طلبہ کیلیے حتی ا لامکان خدمات کے مواقع اپنے اور دیگر اداروں میں فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ہفتہ وار بیان



ہفتہ وار بزم اصلاح البیان



مسابقات



تقسیم اوقات طلبہ24گھنٹے

سالانہ تعلیمی کلینڈر 1433-34ھ


1- طلبہ کے لیے پانچوں نمازوں میں جماعت سے پانچ منٹ قبل مسجد پہنچنا لازم ہوگا نیزاوقات جماعت سمیت کم از کم پندرہ منٹ مسجد میں اعمال میں مشغول رہنا ضروری ہوگا۔

2 -طلبہ کی ظاہری شکل و صورت اور لباس و پوشاک علماء و صلحاء جیسی ہونا چاہئے۔ بے دین، فساق و فجار جیسی نہ ہو۔ -

3 -طلبہ کے لیے سادہ، بغیر نقش و نگار اور بغیر کف و کالر کے کرتا پہننالازم ہے۔نیزکرتا کلی والا ہونا مناسب ہے ،شلوار ٹخنوں سے اوپر ہو۔ -

4- لباس میں سفید رنگ کوترجیح دی جائے ،اس لیے کہ یہ سنت ،زینت اور باعث نظافت ہے۔

5- بے ریش طلبہ سر کے بال دو انچ تک رکھ سکتے ہیں ،اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔البتہ بڑے باریش طلبہ شریعت کے مطابق صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہوئے بڑے بال رکھ سکتے ہیں ۔

6- عیدالاضحی پر پندرہ تعطیلات ہوں گی۔   ہر یوم الخمیس کی عصر سے یوم الجمعہ کی مغرب تک چھٹی ہوگی۔ -

7- چارماہی امتحان کے بعد تین ایام تعطیل کے ہوںگے۔ -

8 -اگر طالب علم کے قریبی محرم رشتہ داروں میں سے کسی کا نکاح یا ولیمہ ہو تو بقدر ضرورت مختصر وقت کے لیے اجازت دی جاسکتی ہے۔ شادی کے مقدمات اوردوسری رسوم میں شرکت کے لیے رخصت نہیں دی جائے گی۔ -

9-  بیماری کے ایام کی رخصت مل سکتی ہے ،تاہم متعلقہ نگران کو بیماری کی تحریری اطلاع دینا لازم ہے۔ -

10-  مہینے میں ایک سے زائدغیرحاضری پر تادیبی کاروائی ہوگی۔ -

11-   اگر کوئی طالب علم مسلسل چھ یوم تک اپنے ہر سبق میں غیرحاضر رہے یا ایک ماہ میں متفرق طورپراس کی غیرحاضریوں کی تعداد 42 گھنٹوں تک پہنچ جائے تو اس کو فی الفور خارج کردیا جائے گا ۔

12-   درجہ اولیٰ کے طلبہ کے آیندہ درجے میں داخلے کے لیے ارشاد الصرف اورنحومیر کے سالانہ امتحان میںتقریری وتحریری میں سے کسی ایک میں70فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی شرط ہے۔ 

13-   درجہ اولیٰ کے سوا دوسرے درجات میں جو طالب علم سالانہ امتحان میںساٹھ فیصد نمبر حاصل نہ کرسکے اسے اگلے درجے میں داخلہ نہیں دیا جائے گا، اگرچہ تمام مضامین کامیاب ہوں۔

14- ہر طالب علم پر لازم ہے کہ کسی بھی زیادتی کا بدلہ ازخود نہ لے، بلکہ منتظمین کے سامنے اپنا معاملہ پیش کرے، ورنہ سخت ترین سزا کا مستحق ہوگا۔

15- طلبہ کو دوران تعلیم کسی بھی غیر تعلیمی سرگرمی مثلاََ سیاسی یا عسکری تنظیم کے ساتھ وابستگی، جلسے یا جلوس میں شرکت اور کسی بھی تنظیم کا اسٹیکر یا بیج وغیرہ لگانے اور رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

16- جامعہ کسی بھی طالب علم کے جامعہ کی حدود سے باہر کے کسی قول وفعل اور کردار کا ذمہ دار نہ ہوگا۔

17- کسی بھی استاذ یا نظم سے متعلق کسی بھی ذمہ دار سے گستاخی یا تلخ کلامی کرنے والے طالب علم کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔ 

18-طلبہ کو جامعہ میں بلا اجازت اپنے مہمانوں کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

19-کسی بھی طالب علم کو جامعہ میں خلاف ضابطہ موبائل رکھنے کی اور نہ ہی خلاف ضابطہ موبائل استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ 

دینی آداب واخلاق اور سنت نبویہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام ،شائستگی ،متانت ،سنجیدگی، نظم ونسق اور ایک مرتب طرز زندگی کا درس دیتی ہے ۔ طلبہ کے لئے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ وہ دوران تعلیم اپنی زندگی میں نظم وترتیب قائم کریں اور اصول کی پابندی کی عادت ڈالیں تا کہ آیندہ وہ لوگوں کے لئے نمونہ بن جائیں۔

اسی بناء پر جامعہ میں زیر تعلیم طلبہ کے ۲۴ گھنٹوں کا مکمل نظام موجود ہے ۔اس میں تعلیمی اور غیر تعلیمی اوقات شامل ہیں ۔جامعہ کی انتظامیہ نے یہ مفید نظام اس لئے ترتیب دیا ہے کہ طلبہ وقت کی پابندی جیسی اعلیٰ صفت کے حامل ہوں ، ہر کام وقت پر کرنے کے عادی بن جائیں اور اپنی عملی زندگی میں وقت کے تمام تر تقاضوں سے عہدہ برآہونے کے لئے ہمہ تن تیار رہیں۔

انتظامی سہولت کے لئے طلبہ کے فریق:

تربیتی نظم ونسق پر عمل کی آسانی کے لئے جامعہ کے طلبہ کے تین فریق(Group)بنائے گئے ہیں ۔جامعہ کے تمام طلبہ ان تین فریقوں میں منقسم ہیں طلبہ کی اس تقسیم میں ان کی عمر اور قد کاٹھ کا لحاظ رکھا گیا ہے اور اس تقسیم کا اعتبار صرف غیر تعلیمی امور میں کیا گیا ہے ۔


قطاریں:

نظم ونسق برقرار رکھنے ،انتشار ،بے ترتیبی اور افراتفری سے بچنے کی غرض سے طلبہ کو مختلف امور کے لئے آمدورفت کے وقت قطاریں بنا کر چلنے کا پابند بنادیا گیا ہے ۔
حاضری:
اسباق میں حاضری کے لئے ہر ایک سبق سے پہلے ہر درسگاہ میں تمام طلبہ کی حاضری ہوتی ہے ۔ہر درجہ کے تمام اسباق میں حاضری کے اعدادوشمار ہر ماہ کے آخر میں جمع کئے جاتے ہیں اور غیرحاضر طلبہ سے باز پرس ہوتی ہے، اسباق کی حاضری کے ساتھ ساتھ تکرارومطالعہ کی حاضری کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ غیرحاضری کا تناسب پورے مہینہ میںمسلسل یا متفرق طور پر اگر ۴۲ گھنٹے یا اس سے زائد ہوجائے تو ایسے طالب علم کا اخراج کیا جاتا ہے،نیز روزانہ کی حاضری بھی دیکھی جاتی ہے اور غیرحاضر طلبہ کو تنبیہ کی جاتی ہے۔
کوائف کاریکارڈ:
 طلبہ کے کوائف کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے ۔ہر ایک استاذ کی اسناد ،تعارف،پتہ، فون نمبر،شناختی کارڈ اور تعلیمی کوائف ایک فائل میں درج ہوتے ہیں ،اسی طرح تمام طلبہ میںسے ہر ایک کی الگ فائل ہوتی ہے جس کے ذاتی کوائف، تعلیمی وتربیتی امور اور حاضری کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اس ریکارڈ کو مزید منظم اور فعال کرنے کیلیے اسے کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے۔
قیمین کا تقرر:
ہردارالاقامہ میںمختلف قیمین حضرات کا تقرر کیا گیا ہے تا کہ طلبہ کے مختلف مسائل کو بروقت حل کیا جاسکے ، 
کھیل کے دوران حفاظت ونگرانی:
عصر کے بعد کھیل اور تفریح کا وقت ہوتا ہے ۔کھیل کے لئے جامعہ کے سامنے ہی ایک وسیع میدان مخصوص ہے۔ کھیل کے دوران طلبہ کی حفاظت ونگرانی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
عمررسیدہ نگران:
جامعہ کے نظم ونسق میں تعاون کے لئے کچھ بزرگ موظفین مقررکئے گئے ہیں جن کے ذمے سونے کے اوقات میں طلبہ کی نگرانی ، بیمار طلبہ کی خدمت ،فجر اور ظہر کی نمازوں کے لئے طلبہ کو بیدارکرنا وغیرہ ہیں۔
صفائی :
صفائی ،ستھرائی ،جسمانی اور روحانی صحت دونوں کے لئے ضروری ہے ۔جامعہ میں صفائی کا ترجیحی طور پر اہتمام کیا جاتا ہے ،جگہ جگہ کوڑے دان رکھے ہوئے ہیں تا کہ کوئی پلاسٹک، فاضل کاغذ یا پرزہ ملے تو ان میں ڈالا جائے ۔ راستوں ،درسگاہوں کے برآمدوں ، دیواروں کی کھڑکیوں اور دروازوں کی روزانہ صفائی کی جاتی ہے ۔چمن زاروں ، پھولوں، پودوں اور راہداریوں کو صاف ستھرا رکھنے کاہمہ وقت انتظام واہتمام ہوتا ہے۔
اصلاح ،تربیت وتزکیۂ نفس:
تعلیم کے ساتھ ساتھ اصلاح وتربیت دینی اداروں کا ایک بہت اہم فریضہ ہے۔ درحقیقت تعلیم ،اعمال واخلاق کی درستگی اور علوم نبویہ کو اپنی زندگی کی جزء بنانے کے لئے ہی دی جاتی ہے ،ورنہ اس کے علاوہ دینی علوم کی تعلیم کا کوئی مقصدنہیںرہتا ۔
جامعۃ الرشید میں حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ خطوط پر اصلاح وتربیت کا ایک مثالی نظم قائم ہے ۔ اساتذہ ،طلبہ اور عملہ کے شب وروز اسی اصلاحی نظم کے تحت گزرتے ہیں، اس کے لئے درج ذیل معمولات کا اہتمام کرایا جاتا ہے:
-1 باجماعت نماز کا اہتمام:
-2 صفوں کی درستگی:(تسویۃ الصفوف)
-3 صف اول اور سنن قبلیہ کا اہتمام
-4 مسنون قراء ت
-5 اذکارواوراد
-6 تلاوت
-7 مسنون دعائیں
-8 ذکرکی مجلس
-9 ہفتہ واربیان
-10 سلسلہ بیعت وارشاد
-11 مہمان علماء کی مجالس
-12 قیام اللیل اور روزوں کا اہتمام
غیرنصابی سرگرمیاں:
مجلس اصلاح البیان ، تحریری وتقریری مسابقات میں شرکت، سیروتفریح، مختلف اداروں کا دورہ، پوٹریٹ اور خاکوں کی تیاری۔

1- میٹرک پاس کم از کم ’’B‘‘ گریڈ۔
2-NTS کا امتحان پاس کرنا لازمی ہے۔

2- عمر زیادہ سے زیادہ 20سال(صرف درجہ اولیٰ کے لیے)

3- داخلہ ٹیسٹ میں کامیابی اور میرٹ لسٹ کے مطابق دیا جائے گا۔

4- کسی بھی درجہ میں داخلے کے لیے قرآن مجید (ناظرہ) صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھا ہوا ہو۔

5- درجہ اولیٰ کے علاوہ تمام درجات میں داخلے کے لیے سابقہ درجہ کا مصدقہ ممتاز نتیجہ

6- اسناد اور مارکس شیٹ/کشف الدرجات کی تصدیق شدہ نقول (جو ناقابل واپسی ہونگی)

7- طلبہ اپنے یا والد کے شناختی کارڈ کی کاپی ہمرا ہ لائیں۔

8- وفاق المدارس کا رجسٹریشن کارڈ یا نمبر

9- پندرہ سے زائد عمر کے طلبہ کسی معتبر شخصیت کی جانب سے ذاتی تعارف اور کردار کی ضمانت ہمراہ لائیں، جس کا مضمون یہ ہو: ’’میں موصوف کو ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ میری معلومات کی حد تک یہ کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں جو ملکی قوانین اور ملی وقومی مفاد کے خلاف ہو۔ یہ جامعۃ الرشید کے وفادار طالب ثابت ہوںگے اور ان سے کسی بھی اعتبار سے جامعہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں۔‘‘

جدید داخلوں کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ’’روزنامہ اسلام یں اشتہار دیا جاتاہے جس میں داخلے کی تاریخ اور جن درجات میں داخلے کی گنجائش ہوتی ہے ان کا اعلان کیا جاتاہے ۔درخواست فارم اور پر اسپکٹس داخلے کے ایام میں جامعہ میں لگائے گئے استقبالیہ سے حاصل کیا جاسکتاہے۔ فارم پر ُکرنے کے بعد اسناد اور ضمانت کی تصدیق کی جاتی ہے پھر طالب علم کو کارڈ جاری کیا جاتاہے جس پر وہ آیندہ داخلے کی کاروائی اور ٹیسٹ دینے کا اہل ہوتا ہے۔ یہ کارڈ نتائج آنے تک طالب علم کے پاس ہونا ضروری ہے ۔

درس نظامی سے منسلک اساتذہ کرام کی تعداد60ہے اور یہ تمام اساتذہ دفتر تعلیمات سے منسلک ہوتے ہیں ۔دفتر تعلیمات میں اساتذہ و طلبہ کے مسائل روزانہ کی بنیاد پر سنتے اور انکے حل کرنے کے لیے ایک مجلس ’’مجلس دفتر تعلیمات‘‘ بنائی گئی ہے جس کی سربراہی ناظم تعلیمات کرتے ہیں۔ جامعۃ الرشید میں شعبۂ تعلیم کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ہر دو یاتین درجات پر الگ الگ نگران تعلیم مقررکیے گئے ہیںتاکہ طلبہ کے تعلیمی نظم کو بطریق احسن چلایا جاسکے ۔

حیثیت

درس نظامی کے8 سالہ نصاب کو چارمراحل میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ہر مرحلہ دوسالوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ دوسرے سال کے اختتام پر وفاق المدارس العربیہ کے تحت اس کا امتحان ہوتا ہے اور کامیاب ہونے والے طلبہ کو اس مرحلے کی سند جاری کی جاتی ہے ، البتہ آخری مرحلہ کے دونوں سالوں کا امتحان وفاق المدارس کے تحت ہوتا ہے ۔ان اسناد کی تعلیمی حیثیت یوں ہے :

امتیازات


وفاق المدارس میں پوزیشنز